34.9 C
Chitral
28 جولائی, 2021
خبریں

اور پاک ایڈ کی جانب سے یتیموں، بیواؤں، علماء کرام سمیت سو لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کی گئی۔

اور پاک ایڈ کی جانب سے یتیموں، بیواؤں، علماء کرام سمیت سو لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کی گئی۔

چترال فلاحی ادارے  ترقی کیلئے تخلیقی نقطہ نظرCreative Approach for Development (CAD) اور لاہور کے ایک غیر سر کاری ادارے پاک ایڈ کی جانب سے چترال میں سو لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔ یہ سامان حصوصی طور پر اس ادارے کے زیر سایہ رہائش پذیر 43 یتیم بچوں، بیواوں اور سفید پوش علماء (مساجد کے پیش امام و خطیب) میں تقسیم کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر چترال ثلقین سلیم اس موقع پر مہمان حصوصی تھے جنہوں نے یہ امدادی سامان تقسیم کیا۔قبل ازیں اے سی چترال کے آ مد پر کیڈ کے چئیرمین شہزادہ مدثر الملک نے اسے یتیم بچوں کیلئے بنائے گئے ہاسٹل کا دورہ کرایا اس ہاسٹل میں تیس یتیم بچے قیام پذیر ہیں جبکہ  پرانے ہاسٹل میں تیرہ بچے رہتے ہیں۔ ان بچوں کو بنیادی عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں اور ان کی نماز، تلاوت، پڑھائی کیلئے باقاعدہ انتظام کیا گیا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے سی چترال نے CAD کی خدمات کو نہایت سراہا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ حکومتی اداروں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے اور محدود بجٹ کی وجہ سے وہ تمام لوگوں کے مسائل حل نہیں کرسکتے تاہم  غیر سرکاری ادارے حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کررہے ہیں جو یقینی طور پر لائق تحسین ہے۔ انہوں نے CAD اور   پاک ایڈ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مصیبت کی اس گھڑی میں چترال کے یتیم بچوں، بیواؤں اور سفید پوش علمائے کرام کے ساتھ مدد کیا جو لاک ڈون کی وجہ سے یہ طبقہ بھی بری طرح متاثر ہوچکا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہزدہ مدثر الملک نے کہا کہ ان کا ادارہ سال 2009 سے یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتا ہے  پرانے ہاسٹل میں بھی یتیم بچے رہائش پذیر ہیں اور نئے ہاسٹل کیلئے مولانا عمائدئن نے مفت زمین فراہم کردی جس پر ایک اور ہاسٹل تعمیر کیا گیا اس نئے ہاسٹل میں فی الحال تیس 30 یتیم بچے  آباد ہیں جو ضلع لوئیر اور اپر چترال سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر تمام مخیر حضرات اور ڈونرایجنسیوں سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنے کمائی میں ان یتیم بچوں کیلئے بھی کچھ رقم محتص کیا کرے جن کا اس زمین پر اللہ کے سواء کوئی سہارا نہیں ہے۔بعد میں مہمان حصوصی نے یہ امدادی سامان نادار لوگوں میں تقسیم کیا۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے اے سی چترال ثقلین سلیم کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری اداروں کو بھی آگے بڑھنا چاہئے اور مصیبت کے اس گھڑی میں وہ حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ مستحق لوگوں کے ساتھ مدد جاری رکھے۔امداد لینے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ہم اس ادارے کے مشکور ہیں جنہوں نے یتیم بچوں اور آئمہ کرام کے ساتھ ساتھ بیوہ خواتین کو بھی امدادی پیکیج میں شامل کیا۔علماء کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا عبد الطیف نے کہا کہ اس ادارے نے علماء، مساجد کے خطیب اور پیش امام کو بھی امدادی پیکیج میں شامل کرکے بہت اچھا کام کیا کیونکہ یہ طبقہ اکثر اپنی سفید پوشی کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتا۔واضح رہے کہ سو مستحق لوگوں کیلئے یہ امدادی سامان  آٹا کوکنگ آئل، محتلف دالیں، چینی، چائے،چنا،سویاں،روح افزا شربت،چاول،نمک، لال مرچ، کھجور وغیرہ  پر مشتمل تھا۔ علاقے کے لوگوں نے حاص کر یتیم بچوں نے اس ادارے کا بے حد شکریہ ادا کیا کہ اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ تعاون کیا۔ اس پروگرام میں ایس او پیز کا حاص حیال رکھا گیا تھااور آنے والے لوگوں میں مفت ماسک بھی تقسم کئے گئے تاکہ ان پر کرونا وایریس کا کوئی اثر نہ ہو۔

Related posts

چترال میں مون سون موسم کے شجر کاری مہم کا آغاز

گل حماد فاروقی

آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے تمام سرکاری ملازمین کا احتجاجی جلسہ۔

گل حماد فاروقی

تورکھو کا زمینی راستہ کسی بھی وقت منقطع ہونے کا امکان

کریم اللہ

Leave a Comment