6.8 C
Chitral
25 فروری, 2021
کالم

آدھی عورت ،آدھی خواب ،آدھی خواب۔۔۔
عورت ۔۔۔عورت۔۔۔۔عورت۔۔۔

آدھی عورت ،آدھی خواب ،آدھی خواب۔۔۔عورت ۔۔۔عورت۔۔۔۔عورت۔۔۔

بری، اچھی ،بے وفا، باوفا،ایسی ویسی،اور خدا معلوم کیسی کیسی۔۔۔

ہر ملک اور ہر زمانے میں بڑے بڑے مفکروں نے عورت کے بارے میں کوئ نہ کوئ راۓ ضرور قائم کی ہے ۔کوئ حسن پر زور دیتا ہے تو کوئ پارسائ اور نیک سیرتی پر مصر لکھتا ہے ۔۔۔
شیطان کی خالہ ، کالی مرد سے کالی عورت زیادہ خطرناک ، یا ایک صاحب کا خیال ہے کہ خدا کے بعد عورت کا مرتبہ ہے ۔۔۔۔
ایک صاحب لکھتے ہیں کہ ”عورت کی شان یہی ہے کہ دنیا سے نا اشنا ہو ، شوہر کی محبت اس کا بیش بہا خزانہ ہوتا ہے اور اس کا چھوٹا سا خاندان اس کی دنیا“

بیوی جاہل کبڈ ہو تو کوئ مضائقہ نہیں ، میاں بیوی سے کم پڑھا لکھا ہو تو بس اندھیر ہو جاۓ گا۔۔۔ چونکہ کسی بڑے مدبر کے قول پر آنچ آجاتی ہے ، ڈاکٹر نائیڈوکو جب ”مسز سروجنی نائیڈو کے شوہر “ کہا جاتا تھا، تو بہت کھسیانے ہوجاتے تھے ۔۔
مرد کے کان میں پیدا ہوتی ہی پھونک دیا جاتا ہے کہ وہ برتر ہے اور اس کی معصوميت دیکھے کہ وہ واقعی یقین کر لیتا ہے کہ وہ دنیا کی لائق تریں عورت سے بلند ہے، صرف اس لیے کہ وہ مرد ہے ۔۔میرا باورچی صرف اس لے میڈم کیوری سے برتر ہوسکتا ہے کہ وہ مرد کی نسل سے ہے ۔۔۔۔
”اگر عورت کے دل کو چیرا جاۓ تو اس میں تحمل ،صبر و برداشت ،پوشیدہ قربانیوں اور نادیدہ خوبیوں کے سوا کچھ نہ ہوگا“

مغربی عورت ہزاروں قسم کی گھریلو مشینوں کے باوجود روزی کمانے پر مجبور ہے ۔بیوی رکابیاں دھوتی ہے تو میاں جھاڑو دیتا ہے ۔۔بیوی بچھونے لگاتی ہے تو میاں بچے کو دودھ کی بوتل تیار کرتا ہے، وغیرہ ۔۔۔مگر ہمارے یہاں کے مرد لمبے چوڑے مقولوں کے لٹھ لیے عورتوں کو ہانکے جارہے ہیں ۔۔۔عورت کو قدرت نے کچھ اس طرح بنایا ہے کہ وہ صرف ایک سے محبت کرتی اور اس پر قرباں ہوجاتی ہے۔۔۔اور مرد؟؟؟؟؟ مرد کی خصلت میں تنوع ہے، وہ ہر دم نئ عورت کی طرف راغب ہوتا ہے“
یہ سب ڈھکو سلے کی باتیں ہیں زمانہ بدل رہا ہے ۔ہمیں اپنی بیٹی ،بہن،ماں اور بیوی کو مردوں کے دوش بدوش کام کرنے پر بھیجنے کیلے مجبور ہونا چاہیئے ۔۔۔
مغربی ممالک میں عورتيں مرد کت دوش بدوش کام کرتی ہیں،مگر ضرورت سے زیادہ اپنی نسوانیت کا ڈھول پیٹتی ہیں، گھڑی گھڑی میک اپ،بال سنوارتی، نیز مرد کو ڈیٹ حاصل کرنے کیلے تمام نازو انداز استعمال کرتی ہیں۔۔
میں نے روس میں عورتوں کو مردوں کے دُو بدُو کام کرتے دیکھا ہے ، نہ میک اپ ، نہ کچھ اور۔۔۔
ہمیں نۓ اقوال بنانا پڑیں گۓ ۔۔
١:کالج اور سکول میں تم نہ ماں ہو نہ بیٹی ہو ، نہ معشوقہ ،صرف طالب علم ہو اور باقی پروفیسر اور طلبا ہیں۔۔
٢:دفتروں میں تم نہ محبت میں باوفا ہو نہ بے وفا سیدھی طرح سے کام کرو اور نخرے بھول جاٶ۔۔
٣:تمہارے گرد جو لوگ بھی بیٹھے ہیں سب انسان ہیں نہ عورتوں افسر ہیں یا کلرک ، یہ میز ہے ، یہ کرسی اور چپراسی۔تم نہ کمزور ہو نہ طاقتور ،نہ صنف نازک نہ صنف کرخت۔۔یہاں شوہر یا بیوی پھسانے نہیں صرف کام کرنے آے ہو ۔۔
٤: صرف شادی ہی تمہاری منزل نہیں کیونکہ شادی کرلینا منزل پر پہنچنا نہیں اسے نبھانا اصلی لمبی سڑک ہے ۔۔

ماخوز از،
عصمت چغتائی کے شاہکار افسانے

Related posts

پردا پوشی

ندیم سنگل

چترالی سیاست اور خواتین کا کردار

افگں رضا

قزل بیگ کی دہلیز ۔۔۔۔

افگں رضا

Leave a Comment