6.8 C
Chitral
25 فروری, 2021
کالم

قزل بیگ کی دہلیز ۔۔۔۔

قزل بیگ کی دہلیز ۔۔۔۔

نہ ان حیات ، نہ دور زمانے می ماند ۔۔۔۔
با یاد گار مگر این نشان می ماند۔۔۔

قزل بیگ بن محمد رضا ، اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ جنگی مہماتوں کو ختم کرنے کے بعد افغانستان سے بہت بڑے قافلے کے ساتھ چترال میں وارد ہوے تھے ۔۔۔یہان پر مقیم ہونے کے بعد دروش سے لیکر وسم ، ریچ تک اپنے تمام مقبوضات کا دورہ کیا ، اور ہر علاقے کے خوصوسات کے بارے میں پوچھا مگر اسے ان سب میں اسے آوی کی سر زمیں پسند آی ۔۔۔اسلے اس نے یہاں اپنے لے مکانات کی بنیاد رکھی ۔۔اس کے قافلے میں ہر پیشے کے لوگ تھے ۔۔اس کے ساتھ ایا ہو جو بڑھائ تھا ، اس کا نام بڈا شور تھا ، یہی مکانات اس نے تعمیر کیا ۔۔۔
یہ تقریباً پندرہ سو نوۓ سے سولا سو کا عشره تھا ۔۔اس کے بعد ، سلیمان شاہ کے آخیری آیام میں کٹور ثانی کی ایماء پر دبور شاہ نے سلیمان شاہ کے خلاف خروج کیا، چونکہ دبور شاہ گلگت پونیال کے علاقے میں تھے، تو سلیمان شاہ نے وقتی طور پر انتقامی کاروائی اس عمارت کو مسمار کر دیا، اور ان عمارت کے ستون اٹھاکر مستوج لۓ گۓ ۔۔۔مگر سلیمان شاہ کا ستارہ گردش میں تھا ، اسلے انتقامی کاروائی اپنے انجام تک نہ پہنچ سکی اور کٹورو ثانی ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا ،اور سلیمان شاہ ازاد خان برش کے ہاتھوں شیر قلعہ میں کسم پرسی کے حالت میں بےدردی سے قتل ہوۓ ۔۔۔ان کی لاش کئ دنوں تک بے گور و کفن پڑی رہی ۔۔۔
دبور شاہ واپس آکر اسی محل یا عمارت کو دوباره تعمیر کرنے کی کوشش کی ، مگر اس کے سادہ لوح لوگ بار بار کوشیشوں کے باوجود اسے تعمیر نہ کر سکے ۔۔۔تو دبور شاہ نے بیل زبح کر کۓ غریبوں کو کھانا کھلایا ۔۔۔تو وہی بڈا شور رات خواب میں کسی کو نظر اکر اسے تعمیر کرنے کا طریقہ بتا دیا ۔۔۔پھر اس عمارت کی دوباره تعمير ہوئ ۔۔
دور حاضر میں ، حاجی زار قباد مرحوم زمین کے تقسيم کے بعد اس تاریخی عمارت کو ڈھا کر اس کے بڑے بیٹے افضل قباد نے ان پرانے ستونوں پر منڈاغ میں اپنے زمین پر یہ دہلیز ازسر نو تعمير کی ، یہ اس کی موجود شکل ہے ، مگر اس دہلیز کے ساتھ قدیم واسطی ایشیائے فنی تعمیر کی یادگار بایپاش اپنی خستہ حالی کی حالت میں ہی ہیں ۔۔۔

Related posts

پردا پوشی

ندیم سنگل

آدھی عورت ،آدھی خواب ،آدھی خواب۔۔۔
عورت ۔۔۔عورت۔۔۔۔عورت۔۔۔

افگں رضا

چترالی سیاست اور خواتین کا کردار

افگں رضا

Leave a Comment